ڈی جی نیب کا عاصم باجوہ کو پہچاننے سے انکار

0 11

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈی جی نیب کا عاصم باجوہ کو پہچاننے سے انکار،عاصم باجوہ کی جائیداد کی تفصیلات سامنے آنے پر کیا کہیں گے؟صحافی کے سوال پر حیران کن جواب ۔۔۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو پہچاننے سے انکار کردیا ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو میں صحافی کی طرف سے ڈی جی نیب لاہور سے سوال کیا گیا کہ عاصم باجوہ کی جائیداد کی تفصیلات سامنے آنے پر ان کا کیا موقف ہے ،

کیا اس پر کارروائی نہیں ہونی چاہیئے ؟ ۔ سوال کے جواب میں ڈی جی نیب لاہور نے کہا کہ کون باجوہ صاحب ؟ کیا ہوگیا ان کو ؟ ہمارے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے بارے میں چلنے والی خبروں پر وفاقی وزیراطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ عاصم باجوہ ایک دوروز میں اپنی پوزیشن واضح کریں گے ، عاصم سلیم باجوہ کابینہ اجلاس میں شریک ہوئے تھے ۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات جنرل (ریٹائرڈ) عاصم باجوہ کے خلاف لگنے والے الزامات کی اعلی سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف نے بدھ کو کراچی پہنچ کر بلاول ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت سے ملاقات کی۔ مسلم لیگ نواز کے وفد میں احسن اقبال اور مریم نواز و دیگر شامل تھے جبکہ آصف زرداری جبکہ بلاول بھٹو کے ہمراہ سینیٹر فرحت اللہ بابر اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ بھی موجود تھے ۔ ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب تو بالکل یہ صاف واضح ہوگیا ہے کہ یہ جو احتساب ہے،

- Advertisement -

- Advertisement -

یکطرفہ ہے۔ کیوں کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم کے معاون خصوصی (عاصم سلیم باجوہ)کے بارے میں جو خبر چھپی، جو الزامات لگے، وہ اتنے سنگین ہیں کہ ان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔فرحت اللہ بابر نے نواز شریف کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی پر اتنے سنگین الزامات لگنے کے باوجود نیب خاموش، حکومت خاموش اور جن پر الزامات لگے ہیں وہ بھی خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ احتساب کا یکطرفہ ہے

اور ایسا احتساب چل نہیں سکتا۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے، یہ احتساب نہیں، جب تک معاون خصوصی کے بارے میں لگنے والے الزامات کا تسلی بخش جواب نہیں آتا، جب تک اس کی انکوائری نہیں کی جاتی، احتساب کا عمل شفافیت سے عاری ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو خبر آئی ہے، اس کی اعلی سطح کی تحقیقات کی جائے۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.