جارج فلائیڈ کی موت کے ذمہ دار سفید فام پولیس اہلکار کو ضمانت پر رہا کردیا گیا|اردو نیوز

ڈیرک شاوین کو مرکزی مجرم قراردیا گیا تھا عدالت نے 10لاکھ ڈالر کے ضمانتی بانڈز پر ضمانت منظور کی

0 84

منی اپلس (اردونیوز) امریکا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے موت کے گھاٹ اتارنے والا سفید فام پولیس اہلکار ڈیریک شاوین ضمانت پر رہا ہوگیا‘ایک اطلاع کے مطابق شاوین کی رہائی کے لیے چندہ جمع کرنے کی ایک مہم چلائی گئی تھی جس میں نسل پرست سفید فاموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یوں پولیس ڈیپارٹمنٹ اور نسل پرست سفید فاموں کی تحریک کی مدد سے وہ اپنے مقدمے کے لیے لاکھوں ڈالر کی رقم جمع کرپائے.
امریکی نشریاتی ادارے ڈیریک شاوین کو 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ضمانتی بانڈ جمع کرنے پر جیل سے رہائی ملی منی اپلس پولیس سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار پر جارج فلائیڈ کو قتل کرنے کا الزام ہے ڈیریک شاوین کو رواں سال31 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا جس پر سیکنڈ ڈگری مرڈر کا الزام ہے فلائیڈ کو قتل کیے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی.
 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاوین ریاست مینیسوٹا کی مرکزی جیل میں قید تھے اور اور مینیسوٹاکے شہر منی اپلس میں ان کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا‘مینیسوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن نے پولیس اہلکاروں کے خلاف نئے سیکشنز کا اعلان کرتے ہوئے کہاتھا کہ یہ سیکشن انصاف کے مفاد میں ہیں مینیسوٹا کے ریاستی قانون کے مطابق ، پہلی ڈگری اور دوسری ڈگری کے قتل کے الزامات میں یہ ثبوت پیش کرنا ہوں گے کہ قاتل قتل کا ارادہ تھا عام طور پر ، جان بوجھ کر قتل کرنے کے لئے فرسٹ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا جاتا ہے ، جب کہ جذبات یا غصے میں ہوئے قتل کے لئے دوسری ڈگری کا الزام عائد کیا جاتا ہے.
 
تیسری ڈگری کے قتل میں سزا یافتہ ہونے کے لیے یہ ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ملزم متاثرہ شخص کی موت چاہتا تھا، صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ملزم نے جو کیا وہ خطرناک تھا اور انسانی جان لینے کا ارادہ نہیں تھا اگر کسی ملزم کو دوسرے درجے کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے تو اسے40سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے دوسری طرف تھرڈ ڈگری قتل کو 25 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے.
یہ بھی پڑھیں:کورونا میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے شمالی کوریا کے سربراہ کا خصوصی پیغام
کورونا میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے شمالی کوریا کے سربراہ کا خصوصی پیغام
 
واضح رہے کہ25مئی کو 46سالہ افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈکو سفید فام پولیس اہلکار ڈیریک شاوین نے چار دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ روکا اور انہیں زمین پر لیٹنے کا حکم دیا جارج کے زمین پرلیٹنے کے بعد ڈیریک شاوین نے اپنا گھٹنا ان کی گردن پر تقریباً 9 منٹ تک ٹیکے رکھا اس واقعے کی ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ جارج فلائیڈ بار بار کہہ رہے ہیں ”مجھے سانس نہیں آ رہا“ امریکا میں پولیس یہ تکنیک انتہائی خطرناک مجرموں کو قابو میں کرنے کے لیے آزماتی ہے تاہم جارج فلائیڈ نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ کوئی ریکارڈ یافتہ مجرم تھے اس لیے ڈیریک شاوین کے اس عمل کو نسل پرستانہ سمجھا گیا.
جارج فلائیڈ کی موت کے بعد جب ان کے آخری لمحات کی ویڈیو وائرل ہوئی تو امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سفید فاموں کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے جبکہ امریکا میں ہونے والے پرتشددمظاہروں میں کئی افراد مارے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے جس کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں کرفیونافذکردیا گیا تھا. جارج فلائیڈ کے قتل کے 6دن بعد عوامی دباﺅ پر ڈیریک شاوین سمیت واقعے میں ملوٹ4 پولیس اہلکاروں کو برطرف کردیا گیا ہے اور ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی امریکہ میں پولیس کے سیاہ فام افراد کے ساتھ نسلی امتیاز کی ایک تاریخ ہے اور ایسے واقعات میں پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی بمشکل ہی ہوئی یہی وجہ تھی کہ پورے امریکا میں اقلیتی برادریوں سمیت لاکھوں سفید فام بھی گھروں سے نکل آئے اور مظاہرین کے ساتھ تحریک میں شریک ہوگئے جو کسی نہ کسی صورت میں ابھی تک جاری ہے.
 
ڈیرک شاوین کو اس معاملے میں مرکزی مجرم قراردیا گیا تھا کیونکہ ویڈیو ثبوت میں وہی جارج فلائیڈ کی آخری سانس تک اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھے نظر آتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ موجود3 پولیس اہلکاروں کو ساڑھے سات لاکھ ڈالر کے ضمانتی بانڈز پر پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.