رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحم دلی

جب اس اُونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ایسا ڈکرایا اور ایسی درد بھری آواز نکالی جیسے بچے کے جدا ہونے پر اونٹنی کی آواز نکلتی ہے

0 5

(اردو نیوز اسلامک)حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے‘وہاں ایک اونٹ تھا‘جب اس اُونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ایسا ڈکرایا اور ایسی درد بھری آواز نکالی جیسے بچے کے جدا ہونے پر اونٹنی کی آواز نکلتی ہے‘اور اس کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو گئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب تشریف لے گئے‘اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کنوتیوں پر اپنا دست شفقت پھیرا (جیسے کہ گھوڑے یا اونٹ پر پیار کرتے وقت ہاتھ پھیرا جاتا ہے)وہ اونٹ خاموش ہو گیا۔پھر آپ نے دریافت فرمایا:”یہ اونٹ کس کا ہے؟اس کا مالک کون ہے؟“ایک انصاری نوجوان آئے اور انہوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ!یہ اونٹ میرا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس بے چارے بے زبان جانور کے بارے میں تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں جس نے تم کو اس کا مالک بنایا ہے؟اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو‘اور زیادہ کام لے کر تم اس کو بہت دکھ پہنچاتے ہو۔“
اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ہیں۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔
حبشہ میں جب نجاشی نے مسلمانوں کے ساتھ مذاکرات کیے تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ہی اسے سورئہ مریم کی آیات سنا کر مطمئن کیا۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہ غزوئہ موتہ میں شریک ہوئے اور لشکر اسلام کے علم بردار مقرر ہوئے۔جنگ کے دوران ان کے دونوں بازو کٹ گئے اور وہ شہید ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھاکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بازوؤں کے بدلے میں جنت میں انہیں دو پر عطا فرما دیے ہیں اور وہ جنت میں اڑتے پھرتے ہیں۔
چنانچہ انہیں جعفر طیار اور ذوالجناحین بھی کہا جاتا ہے۔اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ انہی کے بیٹے ہیں۔والدہ کی طرف سے حضرت عبداللہ ‘محمد بن ابی بکر کے بھائی تھے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بڑے فیاض تھے اور ان کا اعزازی لقب ”بحرالجود“(سخاوت کا دریا)تھا۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو وہاں ایک اونٹ تھا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر درد ناک آواز نکالی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
گویا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تکلیف سے آگاہ کرنا چاہا۔رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اس اونٹ کے پاس گئے‘اس کی کنپٹیوں پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پھر دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟جب اس کا مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ تم اس بے زبان جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور کام بھی اس کی طاقت سے زیادہ لیتے ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کامل لے کر آئے تھے‘جس میں حقوق وفرائض کی پوری وضاحت موجود ہے۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کسی بھی ذی روح کو تکلیف نہ پہنچاؤ‘بلکہ اگر کسی کو تکلیف میں دیکھو تو اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرو‘خواہ وہ انسان ہو یا حیوان۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)”ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے‘پس مخلوق میں سے اللہ کا محبوب ترین بندہ وہ ہے جو اس کے کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرے“۔
گویا مخلوق کے ہر فرد کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی کا برتاؤ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے‘خواہ وہ انسان ہو یا حیوان۔ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی کہا گیا ہے اور مسلمان کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو ہاتھ اور زبان سے کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچائے‘بلکہ بھائی ہونے کا تقاضا پورا کرتے ہوئے ہر دوسرے مسلمان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہو۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے (صحیحین)۔مومن تو مومن ہے‘اسلام تو پرامن کافروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیتا ہے۔حد تو یہ ہے کسی بھی جاندار کو تکلیف پہنچانا بڑا گناہ اور ظلم ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اپنا کنبہ کہا ہے۔جس طرح سر براہ خاندان کو اپنے افراد خانہ سے محبت ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کے ہر فرد کے ساتھ محبت ہے۔
اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ جانوروں کو تنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے‘پالتو جانوروں سے ان کی طاقت کے مطابق کام لینے اور پوری غذا دینے کی تاکید کی گئی ہے۔
اس حدیث میں مذکور اونٹ کا مالک اسے کم خوراک دیتا‘بھوکا رکھتا اور کام اس کی طاقت سے زیادہ لیتا تھا۔چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالک کو خوف خدا کا احساس دلایا اور اس جانور کے معاملے میں اسے نصیحت کی کہ اسے پوری خوراک دیا کرے اور کام بھی مناسب لے۔

- Advertisement -

یہاں ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے‘وہ یہ کہ اس اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا اور اُن کے پاس اپنی تکلیف کی شکایت کی۔کتنے ہی بڑے چھوٹے لوگ اس اونٹ کے پاس سے گزرتے ہوں گے‘اسے دیکھتے ہوں گے‘مگر اس نے کسی اور سے شکایت نہیں کی بلکہ اس ہستی کو اپنی شکایت سنائی جہاں اس کا شکایت کرنا سود مند تھا۔چنانچہ اس کے مالک کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں مناسب تنبیہہ کر دی۔
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین مخاطب انسان آپ کو نہ پہچان سکے اور بجائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہتے اُلٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے اور اذیت دینے میں حد کر دی‘مگر حقیقت یہ ہے کہ ابو جہل‘ابو لہب اور دوسرے سردار ان قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح پہچانتے تھے مگر بد قسمت تھے کہ تعصب نے ان کو اندھا کر رکھا تھا‘ورنہ قرآن میں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے ۔
گویا جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اسلام نہ لائے ان کے مفادات آڑے آئے اور وہ اپنے آباء و اجداد کے باطل طریقوں کو چھوڑنے کی ہمت نہ کرسکے۔اس کے برعکس یہ اونٹ کتنا بخت آور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود چند قدم چل کر اس کے پاس گئے اور اس کی کنپٹیوں پر ہاتھ پھیرا اور اس کی شکایت سنی۔
جانوروں کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت تاکید فرمائی ہے۔
اس سلسلہ میں کتب حدیث میں کئی واقعات ملتے ہیں۔مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں:
”ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے‘اس اثنا میں ہماری نظر ایک سرخ چڑیا(غالباً نیل کنٹھ)پر پڑی‘جس کے ساتھ ایک چھوٹے چھوٹے دو بچے بھی تھے۔
ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا‘وہ چڑیا آئی اور ہمارے سروں پر منڈلانے لگی۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کس نے اس کے بچے پکڑ کے اسے ستایا ہے؟اس کے بچے اس کو واپس کر دو“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی(یعنی زمین کا ایک ایسا ٹکڑا جہاں چیونٹیوں کے بہت سوراخ تھے اور چیونٹیوں کی بہت کثرت تھی)ہم نے وہاں آگ لگا دی تھی‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کس نے ان کو آگ سے جلایا ہے؟“ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم نے ہی آگ لگائی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”آگ کے پیدا کرنے والے رب کے سوا کسی کے لئے یہ سزا وار نہیں ہے کہ وہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دے۔“(سنن ابی داؤد)
حلال جانوروں کو ذبح کرکے اُن کا گوشت کھانے کا حکم ہے کہ وہ اسی لئے پیدا کیے گئے ہیں‘مگر ان کو بھوکا پیاسا رکھنا‘انہیں مارنا پیٹنا اور ضرورت سے زیادہ کام لینا گناہ کی بات ہے۔مسلمان کو ہدایت ہے کہ جب وہ جانور کو ذبح کرے تو چھری کو خوب تیز کرلے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلف ہو۔
پھر ذبح کرنے سے پہلے اُسے بھوکا پیاسا نہ رکھے بلکہ اسے پانی اور چارہ مہیا کرتا رہے۔اس کی کھال اُس وقت اُتارنا شروع کرے جب وہ پوری طرح بے حس و حرکت ہو جائے۔اسی طرح کسی زندہ جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح بھی نہ کرے۔
لوگ جانوروں کے حقوق کو عام طور پر کوئی اہمیت نہیں دیتے‘حالانکہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور جانوروں پر ظلم کرنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
ایک عورت بلی کو بھوکا پیاسا رکھنے کی پاداش میں جہنم کا ایندھن بن گئی۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:”ایک بے درد اور بے رحم عورت اس لئے جہنم میں گرائی گئی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر(بھوکا مار ڈالا) نہ تو اُسے خود کچھ کھانے کو دیا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں سے اپنی غذا حاصل کر لیتی۔
“(بخاری و مسلم)
یہ بنی اسرائیل کی ایک عورت تھی جس کا حال اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرما دیا۔اسی طرح ایسا بھی ہوا کہ ایک شخص نے کسی جانور پر رحم کھایا اور بھوک اور پیاس میں کھانا پانی دیا یا اس کے دکھ درد کو محسوس کیا اور اس کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی خطاؤں کو معاف کردیا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس اثنا میں کہ ایک آدمی راستہ چلا جا رہا تھا‘اسے سخت پیاس لگی۔
چلتے چلتے اسے ایک کنواں ملا‘وہ اس کے اندر اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا۔کنوئیں کے اندر سے نکل کر اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہے اور پیاس کی شدت سے وہ کیچڑ کھا رہا ہے۔اُس آدمی نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی پیاس کی ایسی ہی تکلیف ہے جیسی کہ مجھے تھی۔چنانچہ وہ اس کتے پر رحم کھا کر پھر اس کنوئیں میں اترا اور اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھر کر اُس نے اس کو اپنے منہ سے تھاما اور کنوئیں سے باہر نکل آیا اور اس کتے کو وہ پانی اس نے پلا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی رحم دلی اور اس محنت کی قدر فرمائی اور اسی عمل پر اس کی بخشش کا فیصلہ فرما دیا۔بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ سن کر دریافت کیا یا رسول اللہ!کیا جانوروں کی تکلیف دور کرنے میں بھی ہمارے لئے اجر و ثواب ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہاں!ہر زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور(کی تکلیف دور کرنے)میں ثواب ہے۔
“(بخاری ومسلم)
یہ جذبہ ترحم اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔اللہ تعالیٰ خود ارحم الراحمین ہے اور اسے رحم دل لوگ پسند ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”رحم کرنے والوں اور ترس کھانے والوں پر بڑی رحمت کرنے والا(اللہ تعالیٰ)رحم کرے گا۔زمین پر رہنے بسنے والی اللہ کی مخلوق پر تم رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔“(جامع ترمذی‘سنن ابی داؤد)اسی مضمون کو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر!

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.