موٹروے زیادتی کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد

پیمرا کی جانب سے تمام نشریاتی اداروں کو بھجوائے گئے مراسلے میں سانحہ گجر پورہ کی میڈیا کوریج نہ کرنے کی ہدایت

0 31

لاہور(اُردونیوز) موٹروے زیادتی کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد، پیمرا کی جانب سے تمام نشریاتی اداروں کو بھجوائے گئے مراسلے میں سانحہ گجر پورہ کی میڈیا کوریج نہ کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق پیمرا کی جانب سے ملک کے تمام نشریاتی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ سے موٹروے زیادتی کیس کی کوریج نہ کی جائے۔
 
 
اس حوالے سے تمام نشریاتی اداروں کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کیس کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر کیا گیا ہے۔ ہدایت کی گئی ہے کہ کیس میں ایک ملزم گرفتار جبکہ دوسرا مفرور ہے، اس لیے تمام ٹی وی چینلز زیادتی کیس کے متعلق خبریں دینا روک دیں۔ دوسری جانب پولیس اطلاع ملنے کے باوجود مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی۔
 
 
موٹروے زیادتی کیس کا اہم ملزم عابد علی ایک بار پھر پولیس کو چکمہ دے گیا۔ مرکزی ملزم عابد علی اپنی سالی کو ملنے ننکانہ صاحب آیا تھا۔پولیس اطلاع ملنے کے باوجود عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی۔عابد علی کی سالی نے محلے دار کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس ایک بار پھر عابد علی کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی۔پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر عابد علی قبرستان کے راستے سے فرار ہو گیا۔
اب تک پولیس کا5 بار عابد علی سے آمنا سامنا ہو چکا ہے۔اس سے قبل 19 ستمبر کو بھی پنجاب پولیس موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو 10 فٹ کے فاصلے سے پکڑنے میں ناکام رہی ۔ پولیس کو ملزم عابد علی کی سالی کے گھر موجودگی کی اطلاع ملی، اس کے باوجود پولیس 30 منٹ تاخیر سے وہاں پہنچی۔ملزم عابد علی اپنی سالی کیساتھ ایک پارک میں موجود تھا جب پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔
 
 
پولیس اہلکاروں نے جیسے ہی عابد علی پر ہاتھ ڈالا، ملزم اہلکاروں کو دھکا دے کر فرار ہوگیا۔ عابد علی کی سالی کی جانب سے بتایا گیا کہ عابد ننکانہ صاحب کے رائے بلار بھٹی پارک میں میرے ساتھ موجود تھا جب پولیس نے چھاپہ مارا لیکن ملزم پھر بھی فرار ہوگیا۔اس سے قبل پنجاب پولیس کی بدترین نااہلی کی وجہ سے سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم قصور میں بھی گرفتار ہونے سے بچ گیا تھا۔
 
پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم قصور کی تحصیل راجہ جنگ میں اپنے رشتے دار کے گھر آئے گا۔ انٹیلی جنس رپورٹ ملنے کے بعد پولیس کے کچھ افسران اور اہلکار عابد علی کے رشتے دار کے گھر جا کر بیٹھ گئے۔ عابد علی جب رشتے دار کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو اسے پولیس کی موجودگی کا شک ہوا، ملزم گھر میں داخل ہونے کی بجائے پولیس کے سامنے سے فرار ہوگیا۔ = یہ تیسرا موقع تھا جب ملزم پولیس کے سامنے سے فرار ہوا۔
 
 
ملزم کے فرار ہونے پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور کھیتوں میں کئی گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا گیا،تاہم تب تک ملزم فرار ہو چکا تھا۔ ملزم عابد کو گرفتار کرنا پولیس کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔ پولیس اور حکومت پنجاب کی جانب سے بار بار دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا، ملزم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ملزم 5 مرتبہ پولیس کے سامنے سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ ملزم عابد پہلی مرتبہ قلعہ ستار شاہ، پھر ساہیوال، قصور اور دو بار ننکانہ صاحب میں پولیس کے سامنے فرار ہوگیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.