- Advertisement -

کورونا وائرس کے شکار افراد کا ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا انکشاف

امریکی ڈایابیٹک ایسوسی ایشن کا کورونا کے شکار افراد میں ذیابیطس میں مبتلا ہونے پر تشویش کا اظہار

- Advertisement -

2 122

- Advertisement -

کراچی(اردو نیوز) ماہرین طب نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے شکار افراد ذیابیطس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔امریکی ریاست ایریزونا میں کورونا وائرس کے شکار 28 سالہ شخص کی حالت قرنطینہ کے دوران بگڑ گئی جس پر انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ٹیسٹ کرنے پر انکشاف ہوا کہ مذکورہ شخص کا خون میں شوگر لیول مسلسل بڑھتا رہا ہے جب کہ وہ کبھی ذیابیطس کے مریض نہیں رہے تھے اور مزید ٹیسٹس سے پتہ چلا کہ وہ ذیابیطس ٹائپ ون کے مریض بن گئے ہیں۔

 
یہ بھی پڑھیں:کورونا میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے شمالی کوریا کے سربراہ کا خصوصی پیغام

ماہر ذیابیطس ڈاکٹر فرانسسکو ریوبینو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دنیا بھر سے ایسے کیسز سامنے آرہے ہیں جس سے واضح ہورہا ہے کہ کورونا وائرس مریضوں کو ذیابیطس لاحق ہونے کا موجب بن رہا ہے بالخصوص ایسے مریض جو پری ڈایابیٹک کہلاتے ہیں کووڈ-19 میں مبتلا ہونے کے بعد شوگر کے باقاعدہ مریض بن جاتے ہیں۔
امریکن ڈایابیٹک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر رابرٹ ایئکل نے کہا کہ ہمیں اس وقت ذیابیطس کی ایک نئی قسم کا سامنا ہے۔

- Advertisement -

 
 

یہ ایسے مریضوں میں ظاہر ہورہی ہے جو شوگر کے مریض نہیں تھے اور نہ ہی ان کی ذیابیٹک کے حوالے سے میڈیکل ہسٹری تھی لیکن وہ کورونا کے شکار ہوئے اور پھر اچانک ذیابیطس کے مریض بن گئے۔ڈاکٹر رابرٹ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کیوں کہ مدافعتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے اور ذیابیطس ٹائپ ون میں بھی امیون سسٹم ہی غلطی سے لبلبہ کے ان سیلز کو ختم کردیتا ہے جو انسولین بناتے ہیں اور انسولین نہ بننے کی وجہ سے شوگر ہضم ہونے کے بجائے جسم میں ہی موجود رہتی ہے۔

 

امریکی ڈایابیٹک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر رابرٹ نے بتایا کہ ممکن ہے کورونا وائرس لبلبہ پر حملہ آور ہوا تاہم اس کے امکانات کم ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ امیون سسٹم نے کورونا وائرس پر حملہ کرنے کے بجائے لبلبہ کے سیلز پر حملہ کردیا ہو جس سے جسم میں انسولین پیدا ہونا بند ہوگئی ہو تاہم ابھی صرف ڈیٹا جمع ہوا ہے، اس پر باضابطہ تحقیق ہونا باقی ہے۔

 
 

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

2 تبصرے
  1. blogs کہتے ہیں

    hen we got them in the mail, my friend downloaded a scanner on her phone, and all of them scanned,” Hart said.The national statistics on fake id new york use among college
    students are difficult to pinpoint, but one study conducted by the National Center for Biotechnology
    Information at an unnamed mid-Atlantic public university found that 66% of students sampled admitted to using a fake ID at least once.
    And while students may see this trend as an accepted norm, the proliferation of these realistic
    IDs have become a headache for bouncers, bartenders and business owners, too.Bruno’s Uptown Tavern, a popular college
    bar within walking distance of both Loyola and Tulane’s campus, draws a vibrant student crowd during the school year.
    The bar is 18-and-up to enter, but 21-and-up to drink, which means the bartenders and bouncers are all trained to
    spot fakes according to David Melius, owner of the tavern.

  2. onlifans free packs کہتے ہیں

    OnlyFans
    OnlyFans es una gran noticia, siendo una fuente de ingresos para los usuarios que están recaudando dinero en efectivo mediante el envío de
    fotos desnudas a sus suscriptores. De hecho, Megan Barton Hanson, que encontró fama en Love Island, cobra 19 libras al mes, o
    53 libras esterlinas durante tres meses para ver su
    contenido vaporoso. Esto significa que puede ganar alrededor de 800.000 libras esterlinas cada
    mes después de vender sus fotos y videos a los fans,
    y no es la única que cobra. La lista de los mejores ganadores de
    celebridades de OnlyFans fue revelada recientemente por SlotsUp, que han profundizado en los datos para revelar a los gustos de
    Black Chyna y Cardi B haciendo millones desde la plataforma.
    Esto es lo que los 10 mejores ganadores de celebridades se cree que están haciendo
    en el sitio…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.