تھکن دور کرنے والی غذائیں| اردو ہیلتھ ٹپس

0 10

جب ہم اپنے جسم کی توانائی سے زیادہ کام کرتے ہیں تو ہمارے خون میں شکر اور آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔جب اس کا تناسب معمول کی سطح سے کم ہو تو دماغ اس کو محسوس کرتے ہوئے تمام جسم کو پیغام دیتا ہے کہ شکر اور آکسیجن کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے اور اس کا اظہار تھکن کی صورت میں کرتاہے۔اس وقت جسم میں تھکن اور دکھن محسوس ہوتی ہے ایسے میں تھوڑا آرام کرنے کی صورت جسم نارمل ہو جاتا ہے۔
جن خواتین کو ماہانہ ایام میں زیادہ خون آئے اس سے ان میں خون کی کمی ہو کر تھکن کا سبب بنتی ہے کیونکہ خون کی کمی جسم میں فولاد کی کمی کا باعث بنتی ہے۔اس صورت میں خون میں سرخ خلیات کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ خلیئے جسم کے عضلات اور بافتوں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔

جن خواتین کو تھکن کا سبب ماہانہ ایام میں خون کی زیادتی ہو ان کو فولاد والی غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے تاکہ تھکن جیسا مسئلہ صحت سے محفوظ رہیں۔

- Advertisement -

جذبات میں ہیجانی کیفیت بھی اس مرض کا بڑا سبب ہے۔جو تھکن کام کی زیادتی کے باعث ہوتی ہے وہ تھوڑی دیر آرام کرنے کی صورت جاتی رہتی ہے اور طبیعت پھر سے تازہ دم ہو جاتی ہے۔مگر ایسا شخص جو ہیجانی کیفیت کا شکار ہو مثلاً کسی ایسے شخص سے واسطہ جس سے ذہنی آہم آہنگی نہ ہو اور چپقلش رہتی ہو کو رہنے والی یا ہونے والی تھکن غذاؤں اور آرام کے باوجود نہیں جاتی۔
کیونکہ ایسی تھکن کا سبب عصبی تناؤ اور ذہنی دباؤ ہوتاہے۔اگر چہ ماہرین طب و صحت اس عصبی و ذہنی تھکن کا حل سیر کو قرار دیتے ہیں کہ اس طرح اعصاب اور ذہن کو سکون ملتا ہے کیونکہ سیر سے دبے ہوئے احساسات کو نکل جانے کا راستہ مل جاتا ہے۔اس طرح وہ لوگ جو قسمت کی نامرادی کو ذہن پر سوار کر لیتے ہیں یعنی یہ کہ زندگی میں کامیاب وکامران بن سکا یا نہیں ہو سکتا۔
ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں یہ خوف سوار ہو جاتا ہے۔ایسے لوگ گزرے ہوئے کل کو بھول کر آنے والے روشن دن میں جینا سیکھنے کے اصول پر عمل کریں۔ہمت ہارنے کی بجائے ہمت باندھیں۔ محنت کریں اور پانچ وقت نماز ادا کریں۔
قدرت نے ہمارے گلے میں ایک چھوٹا سا غدود رقیہ (Thyroid Gland) رکھا ہے۔یہ غدود ہضم و انجذاب کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔
جب یہ غدہ غیر متحرک یا غیر فعال ہو جائے تو ہضم و انجذاب کا نظام درست ہو جاتا ہے۔جس سے جسم میں غذائی کمی کے باعث تھکن محسوس ہوتی ہے۔کیفین جسم میں خون کو تحریک دے کر متحرک رکھتی ہے۔مگر کیفین کی زیادتی حرکات قلب کو تیز،فشار خون کو بلند اور ہیجانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔جس سے جسم تھکن محسوس کرتاہے۔جسم میں پانی کی قلت بھی تھکن کا سبب بن سکتی ہے اگر تھکن کا سبب قلت پانی ہے تو پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

- Advertisement -

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ تھکن اتارنے کے لئے آرام کی خاطر لیٹ جاتے ہیں یا سو جاتے ہیں۔بعض چائے،کافی، تمباکو نوشی اور درد کش یا حیاتین کی گولیاں کھاتے ہیں وہ لوگ جو کثرت کار کے باعث تھکن کا شکار ہوتے ہیں وہ یقینا کچھ دیر آرام کے بعد تازہ دم ہو جاتے ہیں مگر لیٹ جانا،آرام کرنا یا سو جانا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔کیونکہ تھکن کا سبب بے خوابی نہیں۔
کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ رات سے لے کر صبح دیر تک سونے کے باوجود تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ایسے لوگ اس طرف نہیں سوچتے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتے ڈٹ کر آرام کرتے ہیں تو پھر تھکن کیسی؟ان لوگوں میں تھکن کا سبب یہی بے کاری اور آرام پسندی ہے۔ایسے لوگوں کو اپنی زندگی کے معمولات تبدیل کرکے کوئی با مقصد کرنا چاہئے۔تھکن دور کرنے کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ تھکن والے لوگ اپنا طرز زندگی تبدیل کریں اور بہتر غذا سے فائدہ اٹھا کر تھکن پر قابو پائیں اور جسمانی توانائی کو قائم رکھیں اگر اس طرح بھی تھکن ختم نہ ہو اور معمول کی جسمانی سرگرمیوں میں حائل ہو تو پھر فوراً معالج سے رجوع کرنا چاہئے۔
تھکن دور کرنے کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ آپ کی غذائیت درست ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو پھر درست غذا کا اہتمام کریں اس حوالے سے چند غذائیں درج ذیل ہیں۔جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں اور تھکن دور کرنے میں معاون ہیں مگر یہ ایسے لوگوں کے لئے ہیں جو غذائی کمی کے باعث تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.