سعودی عرب میں مزید ہزاروں پاکستانی بے روزگار ہو گئے

سعودی حکومت نے کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اسامیاں بھی سعودیوں کے لیے مختص کر دیں

0 92

ریاض (اُردو نیوز) سعودی عرب میں گزشتہ دو سال کے دوران مقامی آبادی کو روزگار دلانے کے لیے لاکھوں غیرملکی کی ملازمتیں ختم کر کے انہیں مملکت سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ چونکہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ غیر ملکی ملازمین پاکستانی ہیں اس لیے سعودائزیشن کے نتیجے میں سب سے زیادہ وہی بے روزگار ہوئے ہیں۔ اب ایک بار پھر ہزاروں پاکستانیوں کی اہم شعبوں سے چھُٹی کرا دی گئی ہے۔
 
تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے نجی اداروں میں کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اسامیاں سعودیوں کے لیے مختص کردی ہیں۔ جس کے باعث ان اداروں سے پاکستانیوں سمیت ہزاروں غیر ملکیوں کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ وزیر افرادی قوت احمد الراجحی نے بتایا کہ یہ فیصلہ مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی خاطر کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کا اطلاق ان تمام نجی اداروں پر ہو گا جہاں ملازمین کی تعداد پانچ یا اس سے زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ، ایپلی کیشن پروگرامنگ، کمیونیکیشن کی ٹیکنیکل اسامیوں، ٹیکنیکل اسسٹنس اور اینالیسس پر یہ فیصلہ لاگو ہوگا۔ وزارت افرادی قوت کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کی 9 ہزاراسامیاں سعودی شہریوں کے لیے مختص کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے
 

یہ بھی پڑھیں:کورونا میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے شمالی کوریا کے سربراہ کا خصوصی پیغام

کورونا میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے شمالی کوریا کے سربراہ کا خصوصی پیغام
جس پر اب عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔
بھرتی کیے جانے والے سعودی ملازمین کو تکنیکی پیشوں میں کم از کم پانچ ہزار ریال اور سپیشلسٹ پیشوں میں سات ہزار ریال تنخواہ دینا لازمی ہو گی۔ واضح رہے کہ وزارت افرادی قوت کی جانب سے بقالوں (جنرل سٹورز و کریانہ شاپس) میں سعودائزیشن کی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے تحت ان جنرل سٹورز میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد گھٹا کر ان کی جگہ بڑی تعداد میں مقامی افراد کو نوکریاں دلوائی جائیں گی۔
 

یہ بھی پڑھیں:موٹروے زیادتی کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد

موٹروے زیادتی کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد
موٹروے زیادتی کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد

وزارت کی جانب سے بقالوں میں 70 فیصد سعودائزیشن کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودائزیشن پروگرام کے مطابق دوسرے مرحلے میں جن 9 شعبوں میں 70 فیصد سعودائزیشن کے احکامات صادر کیے گئے ہیں ان میں چائے، قہوہ ، شہد ، چینی اور مسالے، پانی و مشروبات، سبزیاں پھل اور کھجور، پھول پودے اور زراعتی اشیا، سٹیشنری کی دکانیں و بک سٹورز، گفٹ شاپس اور دستکاری کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں، بچوں کے کھلونوں کی دکانیں، گوشت ، مچھلی ، پنیر اور انڈے ، نباتاتی تیل فروخت کرنے والے ، پلاسٹک کی مصنوعات اور صفائی کی اشیا، ہول سیل اور ریٹیل میں فروخت کرنے والا شعبہ شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.